قادیانی یہ اعتراض عمومًا کرتے ہیں ،کہ آپ لوگ ہمیں کافر کہتے ہیں۔ لیکن ہم تو آپ کی طرح کلمہ بھی پڑھتے ہیں ،آپ کی طرح نماز بھی پڑھتے ہیں، اور آپ کی طرح حج بھی کرتے ہیں ،اس کے باوجود آپ   ہمیں کیوں مسلمان نہیں سمجھتے ؟ تو اسکا جواب یہ ہے ،کہ آج تک کسی نے آپ کو یہ نہیں کہا کہ آپ چونکہ کلمہ پڑھتے ہیں، آپ نماز پڑھتے ہیں اس لیۓ آپ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ یہ آج تک کسی نے نہیں کہا۔

اس کی مثال آپ یوں سمجھیے کہ ایک آدمی ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے اور جب اسکا چیک اَپ کیا جاتا ہے توڈاکٹر اسکو بتاتاہے کہ آپ مریض ہیں ۔ وہ جواب میں کہتاہےکہ  ڈاکٹرصاحب میری آنکھیں بالکل ٹھیک کام کر رہی ہیں، میرا دل بھی بالکل ٹھیک کام کر رہا ہے، میرے ہاتھ پاؤں بھی ٹھیک کام کر رہے ہیں،  قُوتِ شُنوائی بھی بالکل ٹھیک کام کر رہی ہے ،میں بالکل ٹھیک سنتا ہوں اس کے باوجود آپ مجھے بیمار کہ رہے ہیں۔  تو ڈاکٹر صاحب اسکا جواب دیتے ہیں کہ آپکو میں نے جو مریض کہاہے، بیمار کہا ہے اس وجہ سے نہیں کہا ہے کہ آپ کا دل ٹھیک کام کر رہا ہے ،آپ کی آنکھیں ٹھیک کام کر رہی ہیں ،آپ کی قوتِ بینائی ٹھیک کام کر رہی ہے اس وجہ سے میں نے آپکو مریض نہیں کہا۔  میں نے جو آپکو مریض کہا ہے وہ اور وجہ سے ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ کا دماغ جو ہے وہ ٹھیک کام نہیں کر رہا اس وجہ سے میں آپکو بیمارکہ رہا ہوں ۔تو اب اگر وہ ڈٹ جاۓ کہ نہیں جب میرا دل ٹھیک کام کر رہا ہے تو میں بیمار کیسے ہوا ،میری آنکھیں ٹھیک کام کررہی ہیں تو میں بیمار کیسے ہوا ؟تو اسکا پھر کوئی  جواب نہیں۔

تو ہم بھی قادیانیوں سے یہی بات کہتے ہیں کہ آپ کی جو بیماری ہے یعنی جس وجہ سے مسلمان آپکو مسلمان نہیں سمجھتے وہ وجہ اور ہے۔ مثلاً ان میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے حق تعالیٰ کی توہین کی ۔ مثلاً حق تعالیٰ کے بارے میں اس نے یہ بات لکھی کہ حق تعالیٰ نے مجھے مُخاطب ہو کر فرمایا۔

اے مرزا ! تو میرے نزدیک میری اولاد کی طرح ہے۔  یہ تذکرہ جو ان کی وحییوں کی کتاب ہے قُرآن کی طرح اس کے صفحہ نمبر345 پر مرزا غلام احمد قادیانی یہ بات لکھ رہا ہے ۔حالانکہ قُرآن مجید کے اندر ہے،حق تعالیٰ فرماتے ہیں ۔

اس کے علاوہ حق تعالیٰ کی توہین بہت ساری جگہوں پر اس نےکی ہے ،مثلاً ایک جگہ پر یہ کہا ہے کہ تو ہمارے پانی سے ہے۔یہ بھی تذکرہ کے اندر ہے صفحہ نمبر164 پر ۔تو یہ حق تعالیٰ کی اس طرح  کی توہین کرنا یہ کُفر کے زمرے میں آتا ہے۔

اسی طرح اس نے آپﷺ کی توہین کی ۔چنانچہ "ایک غلطی کا ازالہ "صفحہ نمبر4 اور "روحانی خزائن” جلد نمبر18 صفحہ نمبر207 پر لکھتا ہے، پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے۔

اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے ۔اور رسول بھی (نعوذ بالله) ۔یہ آپﷺ کی توہین ہے کہ جہاں پر حق تعالیٰ آپﷺ کو محمدرسول الله کہہ رہے ہیں ،یہ کہتا ہے کہ حق تعالیٰ نے میرا نام اس میں محمد رکھا ہے ۔آپﷺ کے بارے میں تُحفہ گُولڑیا کے اندر "روحانی خزائن” جلد نمبر17 اور صفحہ نمبر205 وہاں پر لکھتا ہے ،کہ خدا تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کو چھپانے کےلیۓ ایک ایسی ذلیل جگہ تجویزکی جو نہایت مطعٔفن اور تنگ اور تاریک حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی (نعوذبالله) ۔اور اسکا بیٹا  اخبارالفضل کے اندر، یہ 17 جولائی کو یہ اخبار شائع ہوئی ہے 1922۔  اس کے اندراسکا بیٹا کہتاہے یہ بالکل صیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتاہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتاہے حتیٰ کہ محمدرسول اللهﷺ سے بھی آگے بڑھ سکتا ہے ۔ یہ آپﷺ کی کتنی بڑی توہین ہے ۔اوراسی طرح حضرت عیسیٰؑ کے بغیر باپ کے پیدا ہونے کا بھی انہوں نے انکار کیا ہے ۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی "ازالہ اُحام” کے اندر "روحانی خزائن” جلد نمبر3 صفحہ نمبر255 اور اسی طرح 254 پروہ یہ لکھتا ہے کہ حضرت مسیح ابنِ مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ 22 بَرس کی مدت تک نجاری کا کام کرتے رہے۔  یعنی لکڑیوں کا کام کرتے رہے فرنیچرکا۔  اور اسی طرح جلد نمبر19 صفحہ نمبر 18 میں بھی اس نے لکھا ہے کہ یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں  یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں،   یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھیں( نعوذ بالله)۔

اسی طرح عیسیٰؑ کے معجزات کا انکار کیا۔  یہ "روحانی خزائن”  جلد نمبر6 صفحہ نمبر 290  پروہ لکھتا ہے کہ، عیسائیوں نے بہت سارے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگرحق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔  حالانکہ عیسیٰؑ کے معجزات  تو قُرآن مجید کے اندر ہیں تو عیسیٰؑ کے معجزات کاانکار کرنا۔  اسی طرح  اس نے دوسرے انبیاؑ کی بھی توہین کی ہے ۔ چنانچہ اس نے لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ میرے لیے اس کثرت سے نشان دکھا رہا ہے اگر نُوح کے زمانے میں وہ نشان دکھاۓ جاتے تو لوگ غرق نہ ہوتے ۔ یہ انبیاؑ کی توہین ہے۔ یہ جلد نمبر22 ہے صفحہ نمبر575 ہے ۔

اسی طرح دوسری جگہ پر لکھتاہے پس اس اُمت کا یوسف یعنی یہ عاجزاسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے، کیونکہ کہ یہ عاجز قید کی دعا کر کے بھی قید سے بچایا گیا مگریوسف بن یعقوب قید میں ڈالا گیا۔ یہ اس نے "روحانی خزائن” جلد نمبر22 اور صفحہ نمبر 99 ۔وہاں یہ بات اس نے لکھی ہے ۔

تو یہ باتیں ایسی ہیں کہ جس کی وجہ سے پوری اُمت مسلمہ کا اتفاق ہے۔ یہ تو چند نمونے ہیں ورنہ تو اتنی باتیں ہیں کہ جس سے ان کا کُفرثابت ہوتا ہے۔ تو یہ لوگوں کو کہتے ہیں کہ ہم دیکھونمازپڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں یہ کرتے ہیں اس کے باوجود ہمیں مسلمان نہیں سمجھا جاتا ،تواصل تو یہ عقائد ہیں ان عقائد کی وجہ سے مسلمان ان کواُمت مسلمہ میں شامل کرنے کے لیۓتیار نہیں ہیں ۔اگر یہ ان عقائد سے توبہ کرلیں اوران لوگوں کو چھوڑدیں جنہوں نے یہ عقائد لکھےہیں تو آج بھی اُمت مسلمہ ان کواپنے گلےلگانے کے لیےتیار ہے ،ہروقت حاضر ہے۔ کہ جب بھی یہ ان عقائد سے توبہ کرلیں گے اور ان عقائد کو لکھنے والوں سے اپنی برأت کا اعلان کریں تو یہ ہمارے بھائی ہیں، ہم ان کوگلے سے لگائیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرماۓ۔

موضوعات

متعلقہ بیانات

ختم نبوۂ – نعمت

حق تعالیٰ کے انعامات میں ہم ہروقت گھرے ہوۓ ہیں حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میری نعمتوں کو تم شمار بھی نہیں کر سکتے اور یقیناً ہے بھی ایسے کہ انسان صرف [...]