حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں تمہیں ضرور آزماؤں گا، کن چیزوں کے ساتھ؟ کبھی کوئی دشمنوں کا خوف تمہارے اوپر طاری کر کے، کبھی فقروفاقہ، اورکبھی میں تمہیں آزماؤں گا تمہارے رزق کے اندر کمی کر کے،اور کبھی میں تمہیں آزماؤں گا تمہاری جانوں کے اندر کمی کر کے۔ کہ تم میں سے تمہارا کوئی پیارا، تمہارا کوئی عزیزدنیا سے چلا جاۓ گایہ تمہارے لیے ایک آزمائش ہوگی۔ پھرآگے حق تعالیٰ نے یہ بھی بتادیا کہ اس آزمائش میں کون کامیاب ہوگا؟ فرمایا، کہ صبرکرنےوالا کامیاب ہوگا۔ صبر کرنے والوں کے ساتھ میں ہوں گا۔ اور صبر کرنے والوں کے بارے میں حق تعالیٰ نے یہ بھی فرمادیاکہ آپ، ان کو خوشخبری دے دیجیۓ۔ اور پھر حق تعالیٰ نے یہ بھی بتا دیا کہ صبر کرنے والے ہیں کون۔ ورنہ ہر کوئ دعویٰ کرتا میں بھی صبر کرنے والا ہوں، میں بھی صبر کرنے والا ہوں۔ تو حق تعالیٰ نے بتادیا کہ صبر کرنے والے لوگ وہ ہیں۔

فرمایا، کہ صبر کرنے والے وہ ہیں کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے، ان کا مال کم ہوجائے، ان کے پیاروں میں سے کوئی پیارا چلاجائے، عزیزواقارب میں سے کوئ چلا جائے یا کسی قسم کی اور کوئی تکلیف پہنچے تو وہ اپنی زبان سے شکایت نہیں کرتے، شکوہ نہیں کرتے۔ حق تعالیٰ سے گِلہ نہیں کرتے۔ دل میں توغم پہنچ سکتاہے، آنکھیں بھی نم ہو سکتی ہیں۔ چنانچہ آپﷺاپنے بیٹے حضرت ابراہیمؑ کے انتقال پرآنسوبہا رہےتھے۔ کسی صحابی نے پوچھ لیا کہ يا رسول اللهﷺ آپ بھی آنسو بہاتےہیں؟ آپﷺ نےفرمایا کہ

اے ابراہیم تیری جدائی کی وجہ سےمیں غمزدہ ہوں۔ تو آپﷺ نے فرمایا کہ یہ آنسو بہانا یہ تو رحمت کی نشانی ہے، دل کے نرم ہونے کی نشانی ہے۔ ہاں، زبان سے ایسا کلمہ نہ کہاجاۓ جو شکایت بن جاۓ، جو حق تعالیٰ سے شکوہ بن جاۓ، جو حق تعالیٰ سے ایک قسم کا گِلہ بن جاۓ۔ کہ یااللہ! آپ نے ایسے وقت میں لے لیا؟ یا اللہ ایسی حالت میں لے لیا؟ یا اللہ ہمارا کیا بنےگا؟ ایسےالفاظ یہ بےصبری کی نشانی ہے۔ تو صبر کرنے والے کون ہیں حق تعالیٰ فرماتےہیں جو کہتے ہیں

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

جو اپنی زبان سے یہی کہتے ہیں بس

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ۔

اور جو دل سے یہ کہتا ہے إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ اورسمجھ کر کہتاہے، اسکا غم ہلکا ہوجاتاہے۔ کیونکہ کسی پیارے کے جدا ہونے کی وجہ سے انسان کو جو غم ہوتاہے، دو چیزوں کا ہوتاہے۔ ایک تو یہ ہے کہ یہ چیز میرے سے کیوں چھن گئ؟ یہ چیزمیری تھی اور دوسرا یہ کہ انسان یہ سمجھتاہے کہ یہ جدایٔ ہمیشہ کےلیۓہے۔ حق تعالیٰ نے إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ میں دونوں چیزیں سمجھا دیں۔ ایک تو یہ سمجھا دی إِنَّا لِلّہ ہم اللہ کے ہیں جو چیز چلی گیٔ ہے وہ بھی اللہ کی تھی وہ ہماری نہیں تھی۔ جب اللہ کی تھی اللہ نے لے لی ہے تو پھر اس میں غم اور فکر نہیں کرنی چاہیے۔ ایک ہے دلی غم وہ تو پہنچتاہے انسان کو لیکن زبان سے ایسے کلمات کہنا کہ یہ چیز کیوں چلی گیٔ ہے؟ وہ چیز آپ کی تھی ہی نہیں وہ تو حق تعالیٰ کی تھی۔ تو یہاں إِنَّا لِلّہ میں ہم نے کہہ دیا کہ یا اللہ ہم بھی آپ کے ہیں جو کچھ آپ نے لے لیا وہ بھی آپ کا۔ اور پھر دوسرا جو غم اور صدمہ ہو سکتاہے کہ یہ جُدایٔ ہمیشہ کی ہے؟ نہیں، بتادیا إِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ ہم بھی آپ کے پاس آنے والے ہیں۔ ہم بھی اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ جس کے پاس یہ آج چلا گیا ہم بھی اُسی کے پاس جانے والے ہیں۔ تو جو غم انسان کو پہنچھا تھا کہ ہمیشہ کے لیۓ شاید یہ غم ہےیہ صدمہ ہمیشہ کا ہے تو اسکا تدارک ہو گیا کہ یہ ہمیشہ کا صدمہ نہیں ہے یہ عارضی طور پر ہے۔ ورنہ ہم نے ایک وقت جُدا ہونا ہے۔ ایک وقت جس طرح ہم جُدا ہو رہے ہیں اس طرح ہم نے جمع بھی ہو نا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابئی رسول کے سامنے جب گھر والوں نے آہ و بقا کی کہ یہ تو جا رہے ہیں دنیا سے، تو اُنہوں نے کہا رُؤو نہیں بلکہ یہ تو خوش ہونے کا مقام ہے اس لیۓکہ ہم نے تو کل جا کر اپنے دوستوں سے ملاقات کرنی ہے، آپﷺ کو جا کر ملنا ہے۔ اس لیۓ یہ تو خوشی کی بات ہے یہ کویٔ افسوس کا مقام نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے حضرت عبُداللہ اِبن عباسؓ کہتے ہیں، میرے سے تعزیت کرنے والے بہت سے لوگ آئے، لیکن ایک دیہاتی نے آ کر عجیب تعزیت کی۔ اس نے آکر اشعار پڑھے جن کا مطلب یہ تھا۔ کہ اے عبُداللہ! تیرے والدمحترم، حضرت عباسؓ جہاں چلے گئے ہیں، جن کے پاس وہ گئے ہیں وہ تم سے بہترہے۔ ظاہر ہے وہ، اپنے پہلے لوگوں میں، اپنے ساتھیوں میں اور آپﷺ کے پاس چلے گے ہیں۔ جن کے پاس وہ گئے ہیں، وہ تم سے بہتر ہیں۔ اور حق تعالیٰ نے تمہیں جو چیز اس کے بدلے میں عطافرما دی کہ تم صبر کرو گے۔ صبر کرنے پر تمہیں جو اَجر ملے گا، وہ اَجر تمہارے لیےبہتر ہے۔ تو تمہیں بھی حق تعالیٰ نے بہترین چیز عطافرما دی اور حق تعالیٰ نے ان کو بھی بہترین چیز تم سے زیادہ اچھے لوگ عطاکردیے۔ تو ہر ایک کو اچھی چیز مل گیٔ تو حضرت عبُداللہ اِبن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اس بات سے مجھے بڑا صبر آیا۔ اور تعزیت جو کی جاتی ہے تعزیت کا مطلب بھی یہی ہوتا ہےکہ دوسرے کو تسلی دینا، دوسرے کے غم کو ہلکا کرنا، دوسرے کےغم کے اندر شریک ہونا۔

تعزیت کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ دوسرے کے غم کو بڑھا دینا ایسے جملے بولنا کہ جس کی وجہ سے دوسرے کا غم بڑھ جاے یہ تعزیت نہیں ہے۔ یہ کہنا، کہ اچھا اب تمہارا کیا بنےگا؟ اب تم کس طرح زندگی گزارو گے؟ یہ دوسرے کے غم کو زیادہ کرنا ہے۔ تعزیت کا مطلب ہوتا ہے دوسرے کو تسلی دینا کہ غم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو حق تعالیٰ کی امانت تھی حق تعالیٰ کے پاس چلی گئی، یہ تسلی ہے۔

اس لیے آپﷺ نے جس طرح جانے والے کا حق بیان فرمایا، اس طرح جانے والے کے جو لواحقین ہیں ان کے بھی حقوق بیان فرمائے۔ ان کا ایک حق یہ ہے کہ ان کے ساتھ تعزیت کی جائے۔ تعزیت میں یہ بھی بتا دیا کہ تین دن تک ان کے لیے کھانے وغیرہ کا انتظام کیا جائے۔ خود اگر وہ کھانا بنانا چاہیں تو جائزہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ جو پڑوس کے اور اسی طرح عزیزواقارب ہیں وہ ان کے لیے کھانے کا انتظام کریں۔ کیونکہ آپﷺ نے فرمایا کہ وہ غم کے اندر نڈھال ہیں اور اسی طرح وہ میت کی تجہیزوتکفین کے اندر مصروف ہیں۔ اسی طرح ان کو دلاسہ دلانا، اسی طرح جنازے کے اندر شریک ہونا یہ بھی لواحقین کے لیے ایک قسم کی تعزیت ہے، جانے والے کا بھی حق ہے، لواحقین کا بھی حق ہے۔

تو آپﷺ نے جانےوالے کے جو حق بیان کیے ہیں ان میں سے ایک حق مسلمان کا جو مسلمان پر ہے وہ اتباعُ الجنائزہے۔ کہ جنازے کے اندر شرکت کرنا۔ آپﷺ نےفرمایا کہ جو جنازے کے اندر بھی شرکت کرتاہے اور تدفین کے اندر بھی شرکت کرتاہے، جنازہ بھی پڑھتاہے اور دفن کے اندر بھی شریک ہوتا ہے، فرمایا اس کو دو قرآ توں کا ثواب ملےگا۔ اور جو صرف جنازہ پڑھتا ہےاس کو ایک قرآت کا ثواب ملے گا۔ اور فرمایا کہ ایک قرآت اُحد پہاڑ کے برابر ہے۔ وہ ایک اُحد پہاڑ کے برابر اس کو اَجر ملے گا۔ اور اگر وہ جنازے کے ساتھ ساتھ تدفین میں بھی شریک ہوتا ہے تو پھر دو قرآ توں کا ثواب ملےگا۔ تو یہ جانے والے کا حق ہے۔

جانے والے کے اور بھی حقوق ہیں، ان میں سے ایک حق یہ ہے اور دوسرا حق اس کے لیےایصال و ثواب کیا جائے، قُرآن مجید پڑھ کر اور کوئی نیکی کا کام کر کے اسکا ثواب اس کو پہنچایا جائے۔ کیونکہ جانے والے کا اعمال نامہ بند ہو چکا ہے۔ اب جو نیک صالح اولاد ہے وہ جو اس کے لیے دعا کرے گی یا کوئی اور اس کے لیے ایصال ثواب کرے گا وہ اسکے اکاونٹ میں جائے گا۔ یا وہ صدقہ جاریہ یعنی نیک اُولاد چھوڑ کر گئے ہیں یا کوئی اور صدقہ جاریہ چھوڑ کر گئے ہیں اسکا ثواب اس کو ملتا رہے گا۔ ورنہ اسکا اکاونٹ بند ہو چکا ہے۔ تو بہرحال، جانے والے کے لواحقین کے بھی کچھ حقوق ہیں اور کچھ حق جو جانے والا ہے، اس کا بھی ہے۔

حق تعالیٰ سے دعاہے، کہ حق تعالیٰ ہمیں ہر ایک کے حقوق پہچاننے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین

موضوعات

متعلقہ بیانات

تعزیت اور صبر

حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں تمہیں ضرور آزماؤں گا، کن چیزوں کے ساتھ؟ کبھی کوئی دشمنوں کا خوف تمہارے اوپر طاری کر کے، کبھی فقروفاقہ، اورکبھی میں تمہیں آزماؤں گا تمہارے [...]

اسمبلی کی بحث

29 مئی   1974؁ کو چناب نگر ریلوے اسٹیشن پر قادیانی اوباشوں نے قادیانی دھرم  کے نام نہاد چوتھے گرو ہ مرزا طاہر احمد کی قیادت میں نشتر میڈیکل کالج ملتان  کے طلبا [...]